13

ن لیگ کو تمام اراکین کے استعفے موصول نہیں ہوئے

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کو تاحال تمام اراکین کے استعفے موصول نہیں ہوئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کی تعداد 165 ہے جبکہ ن لیگ نے 5 باغی اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 83 ہے، جن میں سے کچھ اراکین کے استعفے پارٹی کو موصول نہیں ہوئے ہیں۔

ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ابھی چند اراکین اسمبلی کے استعفے آنا باقی ہیں۔

دوسری جانب ن لیگی رہنما عطا تارڑ نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے 160 ارکان میں سے 159 کے استعفے موصول ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن اتحاد ضمنی انتخابات میں حصہ لے گا۔

ہم نیوز کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد ن لیگ کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کے ہمراہ پریس بریفنگ میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ انتخابات سے متعلق بعد میں فیصلہ کریں گے۔  حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بعد میں فیصلہ کریں گے کہ لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف ہوگا یا کہیں اور۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک مہرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نا اہل حکومت سے نجات کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سب کے استعفے پارٹی قیادت تک پہنچ چکے ہیں۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ 31 جنوری کے بعد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فیٖصلہ کریں گے کہ لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف ہو گا یا کہیں اور۔

امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس ایک ماہ کی مدت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی قیادت لانگ مارچ کی تاریخ کااعلان کریگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں