11

پولیس نے طالبعلم شاہ زیب کی موت کو خود کشی کا نتیجہ قرار دیدیا

ساتویں جماعت کے طالبعلم شاہ زیب کے والد نے گزشتہ روز الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ تین گھنٹے تک تھانے میں انتظار کرانے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے نے حوالات میں خود کشی کرلی ہے۔

ساتویں جماعت کے طالبعلم شاہ زیب کی حوالات میں مبینہ جاں بحق ہونے کا افسوسناک سانحہ گزشتہ روز پیش آیا تھا۔ اس افسوسناک سانحہ کا گورنر کے پی شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے فوری طور پر نوٹس لیا تھا اور آئی جی خیبرپختونختوا سے رپورٹ بھی طلب کی تھی۔

ہم نیوز کے مطابق پولیس کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاہ زیب کی ایک دکان دار سے کھلونا ڈرون کیمرے پر لڑائی ہوئی تھی جس پر طالبعلم نے لڑائی کے دوران دکاندار پر پستول تانی۔ اس پر دکاندار نے شاہ زیب کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔

ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے دوپہر 3 بج کر 42 منٹ پر شاہ زیب کو حوالات میں بند کیا جس کے صرف 24 منٹ بعد اس نے حوالات میں خود کشی کرلی۔ خود کشی کے لیے طالبعلم نے تکیے کے ٹکڑے استعمال کیے جنہیں سلاخوں کے ساتھ لٹکایا۔

ہم نیوز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاہ زیب کے اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واقعے کی جوڈیشل تحقیقات کے لیے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کو بھی درخواست کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے پی محمود خان نے گزشتہ روز شاہ زیب کے مبینہ قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی منظوری دی تھی۔ انھوں نے واقعے میں ملوث تمام پولیس اہل کاروں کو معطل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ سی سی پی او نے اس ضمن میں ایس ایس پی کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں