14

معدومیت کے خطرے سے دوچار پرندے اپنی ہی خوبصورت چہچہاہٹ بھول گئے

کینبرا میں آسٹریلیا نیشنل یونیورسٹی کے محقق روز کریٹر نے برطانوی رائل سوسائٹی جرنل میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ جنوبی مشرقی آسٹریلیا میں پایا جانے والا ہنی ایٹر (Honeyeater) نامی پرندے کی آبادی میں نہایت تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

مضمون نگار روز کریٹر کا کہنا ہے کہ ہنی ایٹر کی آبادی میں تیزی سے کمی کے سبب محدود تعداد میں پائے جانے والے پرندوں کو دوسرے بڑے پرندوں کے ساتھ گھومنے اور سیکھنے کا موقع نہیں ملتا ہے کہ وہ کس طرح کی آواز سنائے۔

روز کریٹر کے مطابق دنیا بھر میں ہنی ایٹر کی تعداد صرف 300 رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر روز کریٹر ان پرندوں کی چہچہاہٹ کو محفوظ کرنے کے لیے ان جنگلی پرندوں کو اسیر کر رہے ہیں تاکہ ان کو چہچہانے کی تعلیم دی جاسکے۔

ڈاکٹر روز کا کہنا ہے کہ ان کی آبادی میں اس قدر کمی آئی ہے کہ ان کی آواز کو محفوظ بنانے اور ان کو قید کرنے کے لیے ان کی تلاش گھاس کے دھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر روز کریٹر کا کہنا ہے کہ تحقیق کے دوران یہ بات نوٹ کی گئی کہ یہ پرندے ہنی ایٹر کی آواز کے برعکس عجیب گیت گارہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ دوسرے قسم کے پرندے ہیں۔ یہ پرندے اپنی مخصوص آواز نکالنا ایسے ہی سیکھتے ہیں جس طرح انسان بولنا سیکھتا ہے۔

ڈاکٹر روز کریٹر کے مطابق جوان پرندوں کی حیثیت سے جب وہ گھونسلوں کو چھوڑ کر بڑی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں دوسرے بڑے پرندوں کی صحبت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ان کو چہچہاتے ہوئے سنیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس آواز کو دہراسکیں۔

سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اسیر پرندوں کی آواز کی ریکارڈنگ چھوٹے پرندوں کو سنائی جائے گی تاکہ انہیں اپنی اصلی آواز سمجھنے اور سیکھنے میں مدد مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں