12

جذام کی دوا بھی کورونا وائرس کے خلاف مفید ہوسکتی ہے، تحقیق

کلوفازیمین (Clofazimine) نامی یہ دوا ساری دنیا میں کئی سال سے جذام کے خلاف کامیابی سے استعمال ہورہی ہے۔ (فوٹو: فائل)

کلوفازیمین (Clofazimine) نامی یہ دوا ساری دنیا میں کئی سال سے جذام کے خلاف کامیابی سے استعمال ہورہی ہے۔ (فوٹو: فائل)

ہانگ کانگ / کیلیفورنیا: امریکا اور ہانگ کانگ کے ماہرین نے ایک مشترکہ تحقیق کے بعد کہا ہے کہ جذام کی ایک عام اور کم خرچ دوا کووِڈ 19 کے علاج میں بھی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

کلوفازیمین (Clofazimine) کہلانے والی یہ دوا ساری دنیا میں کئی سال سے عام دستیاب ہے اور جذام کے خلاف کامیابی سے استعمال ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ جذام (leprosy) جلد کی ایک بیماری ہے جس میں کھال پر سفید دھبے پڑ جاتے ہیں۔ جذام کو برص اور کوڑھ بھی کہا جاتا ہے جبکہ یہ غریب اور پسماندہ ممالک میں بہت عام ہے۔

تحقیقی مجلّے ’’نیچر‘‘ میں اشاعت کےلیے منظور شدہ مقالے کے مطابق، ابتدائی تجربات میں کلوفازیمین نے کووِڈ 19 وائرس کو خلیوں میں داخل ہو کر اپنی نقلیں بنانے اور بیماری پیدا کرنے سے باز رکھا۔

کلوفازیمین کے یہی اثرات ’’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘‘ (MERS) کے خلاف بھی دیکھے گئے۔ 2012 سے شروع ہونے والی یہ عالمی وبا بھی ایک کورونا وائرس ہی کا نتیجہ تھی، یعنی وہ وائرس موجودہ ’’سارس کوو 2‘‘ وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

ماہرین کو امید ہے کہ یہ دوا صرف موجودہ کورونا وائرس ہی نہیں بلکہ کورونا وائرس کی مزید تبدیل شدہ اور نئی اقسام کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہوگی۔

بتاتے چلیں کہ اب تک مختلف امراض کی تقریباً دو درجن دوائیں کووِڈ 19 کے خلاف مفید ثابت ہوچکی ہیں۔

امید ہے کہ کووِڈ 19 کے علاج میں کلوفازیمین کے مزید تجربات جلد ہی شروع ہوجائیں گے۔

اگر بڑے پیمانے کے انسانی تجربات میں بھی کورونا کے خلاف اس دوا کی افادیت ثابت ہوگئی تو یہ خاص طور پر اُن ترقی پذیر ممالک کےلیے اچھی خبر ہوگی جو عالمی کساد بازاری اور امیر ممالک کی اجارہ داری کے باعث ابھی تک کورونا ویکسین سے محروم ہیں یا پھر محدود پیمانے پر ہی مستفید ہوسکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں