4

زلزلے سے متاثرہ اسکول 16 سال بعد بھی تعمیر نو کے منتظر

خیبرپختونخوا میں 2005 کےزلزلے سے متاثرہ اسکول 16 سال بعد بھی تعمیر نو کے منتظر ہیں۔

ذرائع محکمہ تعلیم نے ہم نیوز کلو بتایا کہ 8اکتوبر2005 کےزلزلے میں خیبرپختونخوا کے 554 اسکولز تباہ ہوئے تھے۔

مانسہرہ کے 161 اسکولز بھی متاثر ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 354 اسکولوں کی تعمیر نو تاحال نہ ہوسکی۔

فنڈز کی کمی کی وجہ سے ایرا نے کام ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ صوبائی حکومت اب تک 200 اسکولوں کی تعمیر نو کرچکی ہے۔

باقی اسکولوں میں بھی تعمیراتی کام جاری ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی نہیں ہے، تعمیر نو کا کام جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

پاکستان میں 8اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو آج 16 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ زلزلے میں 70 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

زلزلے سے 28لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے تھے، اس زلزلے میں مظفرآباد کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جبکہ مظفر آباد میں مکانات، اسکولز، کالجز، دفاتر، ہوٹلز، اسپتال، مارکیٹیں، پلازےملبے کا ڈھیر بن گئے تھے۔

اسلام آباد میں 2005 کے زلزلے میں جاں بحق افراد کی یاد میں دعائیہ تقریب منعقد کی گئی،  جہاں  زلزلے میں جاں بحق افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، تقریب میں مارگلہ ٹاور کے باہر جاں بحق افراد کے ورثا اور سول سوسائٹی کے ممبران بھی شریک ہوئے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں