14

کڑک چائے کے شوقین افراد کیلئے: اسٹرانگ زیلنسکی ٹی

بھارت کے مؤقر انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس اور مشہور نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق صدر زیلنسکی کے نام پر چائے کی پتی اس لیے متعارف کرائی گئی ہے کہ وہ انتہائی ثابت قدمی و مضبوطی کے ساتھ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اورملک و قوم کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرنے کے بجائے میدان جنگ میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین کے صدر 24 فروری سے شروع کی جانے والی جنگ کے بعد سے روزآنہ اپنی قوم سے خطاب کرتے ہیں جب کہ گزشتہ روز جنگ کا ایک ماہ مکمل ہونے پر انہوں نے پہلی مرتبہ یوکرینی زبان کے بجائے انگریزی میں لائیو خطاب کیا۔

عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق یوکرین کی فوج، قوم اور ان کے صدر نے روس کے تمام اندازوں کو اپنی مضبوطی و ثابت قدمی سے یکسر غلط ثابت کردیا ہے کیونکہ عمومی خیال تھا کہ یوکرینی چند گھنٹوں سے زائد عرصے تک مزاحمت نہیں کرسکیں گے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک ایک محتاط اندازے کے تحت گزشتہ ایک ماہ کے دوران 36 لاکھ سے زائد افراد نے یوکرین سے ہجرت کی ہے اور پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں جب کہ اس دوران ہر گھنٹے میں انسانی المیے نے بھی جنم لیا ہے لیکن یوکرینی قوم کے مضبوط ارادوں میں معمولی سے بھی لغزش پیدا نہیں ہوئی ہے۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی کو گزشتہ دنوں جب امریکہ کی جانب سے محفوظ پناہ گاہ کی پیشکش کی گئی تھی تو انہوں نے واضح طور پر پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لڑائی یہاں ہو رہی ہے، انہیں، ان کی فوج اور قوم کو دفاع کے لیے گولہ بارود چاہیے نہ کہ محفوظ سواری و پناہ گاہ۔

صدر زیلنسکی کے انہی الفاظ و طرز عمل نے انہیں یوکرینی عوام سمیت دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت بخشی اور لوگوں کی جانب سے ان کے اس طرز عمل کو بے پناہ خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطاق زیلنسکی روسی حملہ آوروں کا اس وقت ٹارگٹ نمبرون ہیں۔

بھارتی ریاست آسام کے بزنس مین رنجیت باروہ بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں جو صدر زیلنسکی سے بیحد متاثر ہیں تو انہوں نے چائے کی نئی پتی پتی ان افراد کے لیے متعارف کرائی ہے جو کڑک چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے چائے کی پتی کا نام زیلنسکی اسٹرانگ ٹی رکھا گیا ہے۔

دلچسپ امر ہے کہ بھارتی ریاست آسام دنیا بھر میں چائے کی کاشت کرنے والے بڑے علاقوں میں شامل ہے اور روس سب سے زیادہ چائے بھارت سے ہی درآمد کرتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی بزنس مین رنجیت باروہ کا کہنا ہے کہ وہ صدر زیلنسکی کے اس طرز عمل کے زبردست فین ہیں جو انہوں نے امریکی پیشکش کے جواب میں اختیار کی۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ روسی افواج کے سامنے کھڑے رہنا ان کے مضبوط و آہنی اعصاب کا عکاس ہے جس کے وہ دلدادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اپنا ملک چھوڑ کر بھی نہیں گئے اور میدان جنگ میں پوری قوت سے ڈٹے ہوئے بھی ہیں۔

رنجیت نے دعویٰ کیا کہ صدر زیلنسکی کے کردار کی مضبوطی اور طاقت جیسا اثر ہماری چائے کے اس برانڈ میں بھی ہے۔

میڈیا کے مطابق ایک سوال کے جواب میں بھارتی بزنس مین نے کہا کہ اگر روس کو ہمارے چائے کے برانڈ سے کوئی مسئلہ ہے تو ہم یہ برانڈ روس کو فروخت کرنے کے لیے بھی تیار ہیں کیونکہ ہماری خواہش ہے کہ روسی عوام بھی اسٹرانگ چائے کا لطف اٹھائیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رنجیت نے کہا کہ دنیا میں بہت سی جنگیں ایک چائے کے کپ پر بات چیت میں ختم ہو چکی ہیں، ہمارا بھی کہنا ہے کہ جنگ نہیں، صلح کرو اور چائے پیو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں