14

پاکستانی عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ظالموں، ظلم اور سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے جبکہ ہم نے پہلے دن سے دھاندلی زدہ حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ عمران خان عوام کے نہیں کسی اور کے وزیر اعظم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جب سلیکٹڈ کا نام دیا تو وہ تالیاں بجا رہے تھے اور یہ مدینہ کی ریاست نہیں اس کی توہین ہے۔ عمران خان کی ریاست میں غیرمناسب زبان استعمال کی جاتی ہے اور یہ کیسی ریاست ہے جس میں امیروں کے لیے ریلیف اور غریبوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔ یہ مدینہ کی ریاست نہیں بلکہ اس کی توہین ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کسان صبح سے شام تک محنت کرتا ہے اور خالی پیٹ سو جاتا ہے اور کیا مدینہ کی ریاست میں جھوٹ کی اجازت ہے؟ وزیر اعظم نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے جو معاہدے کیے گئے وہ عوام کے مفاد میں نہیں تھے اور عمران خان نے 50 لاکھ گھر بنانے کاوعدہ کیا تھا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ خودکشی کروں گا آئی ایم ایف نہیں جاوں گا لیکن وزیر اعظم بنتے ہی آئی ایم ایف کے پاس گئے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسی کی وجہ سے ملک میں تاریخی مہنگائی اور غربت کا سامنا ہے جبکہ پاکستانی عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔ عمران خان نے معیشت تباہ کی اور کسانوں کے لیے سبسڈی کا مطالبہ کیا تو کہا گیا پیسہ نہیں ہے لیکن بجٹ میں پسندیدہ لوگوں کے لیے اربوں کی سبسڈی دی گئی۔ اے ٹی ایمز کے لیے اربوں کی ایمنسٹی اسکیم دے دی گئی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ذاتی حملہ نہیں کرتا۔ اگر جنگ ہار رہے ہیں تو کیا گالی دینا مناسب بات ہے؟ میں نے سب کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر جمع کیا اور استعفیٰ کے معاملے میں اپوزیشن ایک طرف اور میں دوسری طرف تھا۔ میں نے کہا کہ استعفیٰ مت دیں اور حکمرانوں کو کھلا میدان نہیں دیں گے، ضمنی انتخابات میں بھی میں نے کہا کہ میدان مت چھوڑیں لیکن جب اپوزیشن نے میری بات مانی تو ضمنی انتخابات کا منظر سب نے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ساتھیوں نے کہا عمران خان کے پیچھے سہولت کار ہیں لیکن سینیٹ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کرنے سے انکار کیا۔ پیپلز پارٹی مزدوروں اور کسانوں کی جماعت ہے لیکن موجودہ حکمرانوں کا ہر وعدہ جھوٹ ہے۔ قدرتی آفات کے لیے امداد پر بھی ٹیکس عائد ہوا اور اسپتالوں کے لیےعطیات پر بھی ٹیکس لگائے گئے۔ بجٹ میں بچوں کے دودھ پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں